کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 138
أَلتَّـــوْبَـــۃُ وَالْإِسْـتِــغْــفَـــارُ توبہ اور استغفار مسئلہ نمبر 194 بندہ اعتراف گناہ کے ساتھ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ))مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ[1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’بندہ جب اعتراف گناہ کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔‘‘اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 195 موت سے پہلے پہلے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ[2] (حسن) حضرت عبداللہ عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک انسان پر نزع طاری نہیں ہوتی۔‘‘اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 196 توبہ کرنے والے گنہگار، بہترین انسان ہیں۔ عَنْ اَنَسٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّائٌ وَ خَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ))رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ[3] (صحیح) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’سارے انسان خطا کار ہیں اور بہترین [1] مشکوۃ المصابیح، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 2330 [2] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2802 [3] صحیح سنن ابن ماجۃ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2029