کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 134
ہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَّمَّۃٍ [ وَ یَقُوْلُ : ہٰکَذَا کَانَ اِبْرَاہِیْمُ یُعَوِّذُ بِہَا اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَ التِّرْمِذِیُّ، وَاَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَۃَ [1](صحیح) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے لئے یوں دعا فرماتے((میں تم دونوں کے لئے ہر شیطان تکلیف دہ جانور اورنظربد سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے کامل اور پراثر کلمات کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں۔))اور فرماتے ’’بیشک تمہارے باپ(ابراہیم علیہ السلام)اسمٰعیل علیہ السلام کے لئے انہی کلمات کے ساتھ پناہ مانگتے تھے۔‘‘اسے بخاری‘ترمذی‘ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : ایک آدمی کے لئے دعا مانگتے وقت اُعِیْذُکُمَا کی بجائے اُعِیْذُکَ کہنا چاہئے۔ مسئلہ نمبر 186 مریض کو دیکھ کر اپنے لئے یہ دعا مانگنی چاہئے عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((مَنْ رَأَی مُبْتَلیً فَقَالَ] اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلاَکَ بِہٖ وَ فَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً[ لَمْ یُصِبْہُ ذٰلِکَ الْبَلاَئُ))رَوُاہُ التِّرْمِذِیّ [2] (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس نے کسی مصیبت زدہ(یا بیمار)آدمی کو دیکھ کر کہا((اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے بچایا ہے جس میں تجھے مبتلا کہا ہے اور(اس اللہ کا شکر ہے)جس نے مجھے بہت سی دوسری مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔))وہ شخص(کہنے والا)کبھی اس مصیبت میں گرفتار نہیں ہوگا۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 187 سانپ، بچھو اور زہریلے جانوروں کے کاٹنے سے محفوظ رہنے کی دعا۔ وضاحت :مسئلہ نمبر 154 کے تحت حدیث نمبر 6 ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ نمبر 188 برے امراض(برص، کوڑھ اور دیوانگی وغیرہ)سے پناہ مانگنے کی دعا۔ وضاحت :مسئلہ نمبر 174 کے تحت حدیث نمبر 6 ملاحظہ فرمائیں۔ [1] صحیح سنن ابن ماجۃ ،للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 3963 [2] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2729