کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 92
الشَّیْطَاْنُ مَاْکَاْنُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ [1] تو ہم نے انہیں تنگ دستی اور بیماری سے پکڑ لیا تاکہ وہ عاجزی کریں ،تو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تو انھوں نے عاجزی کیوں نہ اختیار کی؟ لیکن(در حقیقت)ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین اور آراستہ کر دیا۔ (ب)نیز ارشاد ہے: ﴿ قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمَاْتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہُ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنْجَاْنَاْ مِنْ ھَذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشَّاْکِرِیْنَ﴾ [2] آپ کہہ دیجئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے نجات دلاتا ہے،تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو،کہ اگر اس نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ (ج)نیز ارشاد ہے: [1] سورۃ الأنعام:۴۲،۴۳۔ [2] سورۃ الأنعام:۶۳۔