کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 90
ڈرتے ہوئے،اور بغیر تیز آواز کے،صبح و شام،اور غافلوں میں سے نہ ہو جایئے۔ (ج)حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگ بہت زور زور سے تکبیر کہنے لگے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’أیھا الناس اربعوا علی أنفسکم انکم [لا تدعون] أصم ولا غائباً،إنکم تدعون سمیعاً قریباً وھو معکم‘‘[1] اے لوگو!اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو،(بہت زیادہ آواز بلند نہ کرو)تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو،بلکہ تم ایک ایسی ذات کو پکار رہے ہوجو سننے والی‘ قریب اور تمہارے ساتھ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے علم اور اپنی اطلاع کے ذریعہ تمہارے ساتھ ہے،کیونکہ معیت کی دو قسمیں ہیں : معیت عامہ،اور معیت خاصہ۔ ۱- معیت عامہ: معیت عامہ علم اور اطلاع کے ذریعہ ساتھ رہنے کو کہتے [1] بخاری،حدیث نمبر:(۴۲۰۵)،ومسلم(مذکورہ الفاظ کے ساتھ)،حدیث نمبر:(۲۷۰۴)،لیکن بین القوسین کے الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔