کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 89
مال پر بددعاء کرو،اللہ کی جانب سے کسی ایسی گھڑی کی موافقت نہ کرو جس میں کوئی عطیہ مانگا جارہا ہوتو اس میں تمہاری بد دعاء بھی قبول ہو جائے۔ (۴)- دعاء میں اپنی آواز اس قدر پست رکھے کہ انتہائی پوشیدگی اور بہت ہی بلند آواز کے درمیان ہو: (الف)ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ادْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً إِنَّہُ لَاْ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾[1] اپنے رب سے دعاء کیا کرو عاجزی کرتے ہوئے اور چپکے چپکے بھی،یقینا اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (ب)نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِيْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَاْلِ وَلَاْ تَکُنْ مِّنَ الْغَاْفِلِیْنَ﴾ [2] اور اپنے رب کا ذکر کیجئے اپنے دل میں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور [1] سورۃ الأعراف: ۵۵۔ [2] سورۃ الأعراف:۲۰۵۔