کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 87
جسے یہ پسند ہوکہ اللہ تعالیٰ پریشانیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعاء قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ آسانی اور سکون کی حالت میں اللہ سے کثرت سے دعائیں کرے۔ مفہوم یہ ہے کہ جسے یہ پسند ہو کہ’’شدائد‘‘ یعنی پر مشقت مواقع پر اور ’’کرب‘‘ یعنی جان لیوا غم اور دکھ کے موقع پر اللہ تعالیٰ اس کی دعاء قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ صحت‘فارغ البالی اور عافیت کی حالت میں اللہ سے کثرت سے دعاء کرے،کیونکہ مومن کی شناخت یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف پناہ لے اور اس سے ہمیشہ لو لگائے رکھے،اور تعلق استوار رکھے،اور مجبوری اور دشواری سے پہلے اللہ کی پناہ لے۔[1] اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا،انہیں نجات دینے اور ان کی دعاء کی قبولیت کے سلسلہ میں فرمایا: ﴿ فَلَوْلَاْ أَنَّہُ کَاْنَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ ،لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِہِ إِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴾ [2] [1] دیکھئے: تحفۃ الأحوذي،۹/۳۲۴۔ [2] سورۃ الصافات: ۱۴۳،۱۴۴۔