کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 83
محمد‘‘[1] ہر دعاء رکی رہتی ہے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اورآپ کے آل پر درود نہ بھیجا جائے۔ (ب)حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے [1] اسے امام طبرانی نے ’’المعجم الوسیط‘‘(۴/۴۴۸)میں روایت کیا ہے(روایت حضرت علی پر موقوف ہے)مصورۃ الجامعۃ الاسلامیۃ،امام ہیثمی نے مجمع الزوائد(۱۰/۱۶۰)میں فرمایا ہے: ’’اس حدیث کے تمام راوی ثقہ(قابل اعتماد)ہیں اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ(۵/۵۷)میں اس کی موافقت کی ہے،اور اس حدیث کے حضرت معاذ بن جبل سے مرفوعاً،حضرت عبد اللہ بن بسر سے مرفوعاً اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی بہت سارے شواہد ہیں ،اور حضرت عمر سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : ’’إن الدعاء موقوف بین السماء والأرض لا یصعد منہ شيء حتی تصلي علی نبیک صلی اللّٰہ علیہ وسلم ‘‘ بے شک دعاء زمین و آسمان کے درمیان موقوف ہوتی ہے ،اس میں سے کچھ بھی اوپر نہیں چڑھتا یہاں تک کہ آپ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں ۔ ترمذی،حدیث نمبر:(۴۹۰)،علامہ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : ’’خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث ان تمام طرق اور شواہد کی روشنی میں کم سے کم حالت میں حسن کے درجہ سے نیچے نہیں اترتی ان شاء اللہ تعالیٰ ‘‘۔دیکھئے: الأحادیث الصحیحۃ،۵/۵۷،حدیث نمبر:(۲۰۳۵)،و صحیح الجامع،۴/۷۳،و صحیح الترمذی،۱/۱۵۰۔