کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 80
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ما من مُسلمٍ يدعو اللّٰہَ بدعوةٍ ليس فيها إثمٌ ولا قطيعةُ رحِمٍ إلا أعطاه اللّٰہُ بها إحدى ثلاثِ: إمّا أن يعجِّلَ لَهُ دعوتَهُ،وإمّا أن يدَّخرَها له في الآخرةِ،وإمّا أن يصرفَ عنهُ منَ السُّوءِ مثلَها. قالوا: إذًا نُكْثِرُ،قالَ: اللّٰہُ أَكْثَرُ ‘‘[1] جو کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں کوئی نہ گناہ ہوتا ہے اور نہ ہی قطع رحمی(قطع تعلق)تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عطا فرماتا ہے: یا تو اس کی دعا اسی وقت قبول ہو جاتی ہے،یا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو آخرت کے لئے ذ خیرہ کردیتا ہے،یا اس سے اسی کے مثل کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: تب تو ہم کثرت سے دعا کریں گے،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ(عطا فرمانے والا)ہے۔ چنانچہ کبھی انسان سوچتا ہے کہ اس کی دعاء قبول نہیں ہوئی جب کہ اس کی [1] مسند احمد ،۳/۱۸،اس حدیث کی تخریج ص :(۴۱)میں گزر چکی ہے۔