کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 77
٭ تیسرا مانع: گناہوں اور حرام امور کا ارتکاب: کبھی کبھی عملی محرمات کا ارتکاب بھی دعاء کی قبولیت سے مانع ہوتا ہے: [1]اسی لئے بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے:’’ دعاء کی قبولیت میں تاخیر کا شکوہ نہ کرو‘ اس حال میں کہ تم نے گناہوں سے اس کی قبولیت کا راستہ بند کردیا ہے،اور اسی بات کو لے کر بعض شعراء نے یوں کہا ہے: نحن ندعوالإ لٰہ في کل کربٍ ثم ننساہ عند کشف الکروب کیف نرجو إجابۃً لدعـائٍ قد سددنا طریقھا بالذنوب[2] ہم اللہ کو ہر مصیبت کے وقت پکارتے ہیں پھر مصیبت دور ہو جانے کے بعد اسے بھول جاتے ہیں ،ہم کسی دعاء کی قبولیت کی امید کیوں کرتے ہیں جبکہ ہم نے اس کے راستے کو گناہوں سے بند کر دیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ غفلت اور حرام خواہشات میں پڑنا بھلائیوں سے محرومی کے اسباب میں سے ہے،اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: [1] جامع العلوم والحکم،۱/۲۷۵۔ [2] مصدر سابق،۱/۳۷۷،نیز دیکھئے: حاکم،۲/۳۰۲،وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،حدیث نمبر:(۱۸۰۵)۔