کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 73
جناب میں توبہ کرے اور حقوق ان کے حق داروں کو واپس لوٹائے تاکہ اس عظیم آڑ اور مانع سے محفوظ رہے جو اس کے اور اس کی دعاء کے درمیان حائل ہوتی ہے۔ ٭ دوسرا مانع: جلد بازی اور ترک دعاء: جو چیزیں دعاء کی قبولیت سے مانع ہوتی ہیں ان میں سے ایک مانع یہ بھی ہے کہ مسلمان جلد بازی کرے اور قبولیت میں تاخیر کے سبب دعاء ترک کردے۔[1] چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو دعاء کی قبولیت کے موانع میں سے قرار دیا ہے‘ تاکہ بندہ اپنی دعاء کی قبولیت سے اپنی امید منقطع نہ کرے‘ اگرچہ مدت لمبی ہو،کیوں کہ اللہ تعالیٰ دعاء میں الحاح و زاری کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[2] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ يُسْتَجابُ لأَحَدِكُمْ ما لَمْ يَعْجَلْ،فيَقولُ: قدْ دَعَوْتُ فَلَمْ [1] جامع العلوم والحکم،۲/۴۰۳۔ [2] مصدر سابق،۲/۴۰۳۔