کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 60
اے میرے بندو!اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور تمہارے جنات‘ سب ایک جگہ کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں ‘ اور میں ہر انسان کو دیکر اس کی مانگ پوری کردوں تو بھی میرے پاس سے صرف اتنا ہی کم ہوگاجتنا ایک سوئی کے سمندر میں ڈالنے سے(پانی)کم ہوتا ہے۔ یہ اللہ عز وجل کے کمال قدرت کی دلیل اور کمال بادشاہت کا شاہکار ہے اور یہ کہ اس کی بادشاہت اور اس کے خزانے نہ تو ختم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی دینے سے اس میں کمی آسکتی ہے‘ اگر چہ تمام اولین و آخرین کو ‘ خواہ وہ جن ہوں یا انسان بیک وقت ایک ہی جگہ ان کی مانگی ہوئی چیزیں انہیں عطا کر دے۔[1] اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ يَدُ اللّٰہِ مَلْأى لا یَغضُها نَفَقَةٌ سَحّاءُ اللَّيْلَ والنَّهارَ،أرَأَيْتُمْ ما أنْفَقَ مُذُ خَلَقَ السَّماءَ والأرْضَ،فإنَّه لَمْ يَغِضْ ما في يَدِهِ، [1] جامع العلوم والحکم: ۲/۴۸۔