کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 59
اور جن چیزوں سے مسلمان کے اپنے رب تعالیٰ پر اعتماد وتوکل میں اضافہ ہوتا ہے ان میں سے اس چیز کا علم بھی ہے کہ برکتوں اور بھلائیوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ،ارشاد ہے: ﴿ وَإِنْ مِّنْ شَيْئٍ إِلَّاْ عِنْدَنَاْ خَزَاْئِنُہُ وَمَاْ نُنَزِّلُہُ إِلَّاْ بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ﴾[1] اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں ،اور ہم ہر چیز کو اس کے مقررہ انداز سے اتارتے ہیں ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب تبارک وتعالیٰ سے روایت کردہ حدیث قدسی میں فرماتے ہیں : ’’ يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ‘‘[2] [1] سورۃ الحجر:۲۱۔ [2] مسلم،بروایت حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:(۲۵۷۷)۔