کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 51
عَلِیْماً﴾[1] اور اللہ سے اس کا فضل مانگو،بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ۲- دوسری شرط: متابعت(اتباع سنت) یہ تمام عبادات کی شرط ہے،ارشاد باری ہے: ﴿ قُلْ إِنَّمَاْ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحَی إِلَيَّ أَنَّمَاْ إِلٰھُکُمْ إِلٰہٌ وَّاْحِدٌ فَمَنْ کَاْنَ یَرْجُوْا لِقَاْئَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَاْلِحاً وَّلَاْ یُشْرِکْ بِعِبَاْدَۃِ رَبِّہِ أَحَداً﴾[2] کہہ دیجئے کہ میں تمہارے ہی مثل ایک بشرہوں ،میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ یقینا تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے،توجو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہواسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ عمل صالح یہ ہے کہ شریعت الٰہی کے مطابق ہو اور اس کے ذریعہ اللہ سبحانہ [1] سورۃ النساء:۳۲۔ [2] سورۃ الکھف: ۱۱۰۔