کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 49
جھوٹے اور ناشکرے کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿وَمَاْ أُمِرُوْا إِلَّاْ لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاْئَ﴾[1] انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ یکسو ہوکر اللہ تعالیٰ کے لئے عبادت کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،و ہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا تو آپ نے فرمایا: ’’ يا غلامُ،إني أعلِّمُك كلماتٍ: احفَظِ اللّٰہَ يحفَظْك،احفَظِ اللّٰہَ تجِدْه تُجاهَك،إذا سألتَ فاسألِ اللّٰہَ،وإذا استعنْتَ فاستعِنْ باللّٰہِ،واعلمْ أنَّ الأمةَ لو اجتمعتْ على أن ينفعوك بشيءٍ،لم ينفعوك إلا بشيءٍ قد كتبه اللّٰہُ لك،وإنِ اجتمعوا على أن يضُرُّوك بشيءٍ لم يضُروك إلا بشيءٍ قد كتبه اللّٰہُ [1] سورۃ البینۃ:۵۔