کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 38
اپنے رب سے دعا کرو،گڑگڑا کر اور خفیہ طور پر بھی،یقینا اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا،اور دنیا میں اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ،اور اللہ سے دعا کرو،اس سے ڈرتے ہوئے اور اس سے امید وابستہ کئے ہوئے،یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں سے قریب ہے۔ (۴) نیز اللہ تبار ک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَادْعُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْکَاْفِرُوْنَ﴾[1] تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لئے دین کو خالص کر کے،گر چہ کافروں کو ناپسندیدہ ہو۔ (۵) نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ ھُوَ الْحَيُّ لَاْ إِلٰہَ إِلَّاْ ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَاْلَمِیْنَ﴾ [2] وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ،پس تم خالص اس کی [1] سورۃ المؤمن:۱۴۔ [2] سورۃ المؤمن:۶۵۔