کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 37
جب کبھی وہ پکارے قبول کرتا ہوں ،اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ میری بات مان لیا کریں ،اور مجھ پر ایمان رکھیں ،شاید وہ رشد و بھلائی سے ہمکنارہوں ۔ (۲) ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَقَاْلَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَاْدَتِيْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاْخِرِیْنَ﴾ [1] اور تمہارے رب نے کہا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا،یقینا جو لوگ میری عبادت سے اعراض و تکبر کرتے ہیں وہ جلد ہی ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ (۳) نیز ارشاد ہے: ﴿ ادْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً إِنَّہُ لَاْ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ،وَلَاْ تُفْسِدُوْا فِيْ الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاْحِھَاْ وَادْعُوْہُ خَوْفاً وَّطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾ [2] [1] سورۃ المؤمن: ۶۰۔ [2] سورۃ الأعراف: ۵۵،۵۶۔