کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 34
اور شکر کرنے والوں میں سے ہوجا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿ وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّاْ کَاْنُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ [1] اور اگر بالفرض یہ حضرات(انبیاء)بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہو جاتے۔ استغاثہ(فریاد)اور دعا کے درمیان فرق: استغاثہ کے معنیٰ مدد طلب کرنے یعنی پریشانی کے ازالہ کے ہوتے ہیں ،جیسے استنصار کے معنیٰ نصرت ومدد طلب کرنے اور استعانت کے معنیٰ اعانت طلب کرنے کے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ استغاثہ اور دعا کے درمیان فرق یہ ہے کہ استغاثہ کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت کیا جاتاہے،جبکہ دعا استغاثہ سے عام ہے ‘ کیونکہ دعا پریشانی اور غیرپریشانی ہر حال میں کی جاتی ہے۔ لہٰذا جب دعاء کا عطف استعانت پر ہو تو وہ عطف العام علی الخاص کے قبیل سے ہوگا اور دعا اور استغاثہ کے درمیان عموم خصوص مطلق کی نسبت پائی جائے [1] سورۃ الأنعام :۸۸۔