کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 32
وَقَاْلَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِيْ إِسْرَاْئِیْلَ اعْبُدُوْا اللّٰہَ رَبِّيْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاْہُ النَّاْرُ،وَمَاْ لِلظَّاْلِمِیْنَ مِنْ أَنْصَاْرٍ﴾[1] بے شک وہ لوگ کافر ہو گئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہیں ،حالانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھاکہ اے بنی ۱سرائیل!اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے،یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿ إِنَّ اللّٰہَ لَاْ یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَاْ دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ یَّشَاْئُ،وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَاْلاً بَعِیْداً﴾ [2] یقینا اللہ تعالیٰ اس چیز کو نہیں معاف کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ،اوراس کے علاوہ گناہ کو جس کے لئے چاہے بخش دیتا ہے،اور [1] سورۃ المائدۃ :۷۲۔ [2] سورۃ النساء:۱۱۶،اور آیت(۴۸)میں {فقد افتری إثماً عظیماً}کے الفاظ ہیں ۔