کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 29
مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک گھر بنا لیتی ہے ،حالانکہ تمام گھروں سے کمزور اور بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے کاش وہ جانتے،اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنھیں وہ اس کے سوا پکار رہے ہیں ،اور وہ غالب اورحکمت والا ہے،ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان فرما رہے ہیں ،اور انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں ۔ نیز ارشاد ہے: ﴿ قُلِ ادْعُوْا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَاْ یَمْلِکُوْنَ مِثْقَاْلَ ذَرَّۃٍ فِيْ السَّمَاْوَاْتِ وَلَاْ فِيْ الْأَرْضِ وَمَاْ لَھُمْ فِیْھِمَاْ مِنْ شِرْکٍ وَّمَاْ لَہُ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ،وَلَاْ تَنْفَعُ الشَّفَاْعَۃُ عِنْدَہُ إِلَّاْ لِمَنْ أَذِنَ لَہُ حَتّیٰ إِذَاْ فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَاْلُوْا مَاْذَاْ قَاْلَ رَبُّکُمْ قَاْلُوا الْحَقَّ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾[1] کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے سب کو پکار لو ،نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمین میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے،نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے،نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، [1] سورۃسبا:۲۲،۲۳۔