کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 261
کروں ،اور اس کے ذریعہ اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے‘‘،یا عرض کیا: مجھے اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل بتایئے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علیک بکثرۃ السجود،فإنک لا تسجد للّٰہ سجدۃً إلا رفعک اللّٰہ بھا درجۃً وحط عنک بھا خطیئۃ‘‘[1] خوب سجدے کیا کرو،کیوں کہ تم جو بھی سجدہ کروگے اللہ اس کے ذریعہ تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا ئے گا۔ (۴)-اللہ سے دنیا و آخرت میں عفو اورعافیت کا سوال کرنا: حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ بیان کرتیہیں کہ میں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے کوئی ایسی چیز سکھایئے جو میں اللہ سے مانگوں ؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’اللہ سے عافیت مانگو‘‘،میں کچھ روز ٹھہرا پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا،اے اللہ کے رسول !مجھے کوئی ایسی چیز سکھایئے جو میں اللہ سے مانگوں ؟ تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’یا عباس،یا عم رسول اللّٰہ : سل اللّٰہ العافیۃ في الدنیا [1] مسلم،۱/۳۵۳،حدیث نمبر:(۴۸۸)۔