کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 25
فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذاً مِّنَ الظَّاْلِمِیْنَ،وَإِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَاْ کَاْشِفَ لَہُ إِلَّاْ ھُوَ وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَاْ رَاْدَّ لِفَضْلِہِ یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَاْئُ مِنْ عِبَاْدِہٖ وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴾[1] اور تم اللہ کے علاوہ کسی ایسی ذات کو نہ پکارو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی نقصان ،اگر تم نے ایسا کیا تو تم یقیناً ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤگے،اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اور کوئی اسے دور کرنے والا نہیں ہے،اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں ،وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے اور وہ بڑی مغفرت ‘بڑی رحمت والا ہے۔ نیز ارشاد ہے: ﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَاْدٌ أَمْثَاْلَکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَاْدِقِیْنَ﴾[2] [1] سورۃ یونس: ۱۰۶،۱۰۷۔ [2] سورۃ الأعراف: ۱۹۴۔