کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 235
سے دعاء کرتا ہے تو اللہ اس کی دعاء قبول کرتا ہے،چنانچہ وہ اپنے رب عز وجل کے نزدیک اپنی کرامت کے ذریعہ دعاء کی قبولیت والا شخص ہوجاتا ہے،(یعنی وہ جو بھی دعاء کرتا ہے اللہ کے یہاں قبول ہوتی ہے)۔ سلف صالحین میں سے بے شمار لوگ دعاء کی قبولیت کے لئے معروف تھے۔[1] صحیحین میں ہے کہ ربیع بنت النضر نے ایک لونڈی کا دانت توڑ دیا،چنانچہ ان کے گھروالوں نے لونڈی کے ذمہ داروں سے دیت لینے کی پیشکش کی ‘ تو انھوں نے انکار کر دیا،پھر ان سے معافی کامطالبہ کیا تو بھی انھوں نے انکار کردیا،بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قصاص کا فیصلہ فرمایا،انس بن النضر نے کہا:’’کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟‘‘ اللہ کی قسم !جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اس کا دانت نہیں تو ڑا جا سکتا،چنانچہ لوگ دیت لینے پر راضی ہوگئے،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إن من عباد اللّٰہ من لو أقسم علی اللّٰہ لأبرہ‘‘[2] [1] دیکھئے: جامع العلوم والحکم ۲/۳۴۸۔ [2] بخاری ،حدیث نمبر:(۲۷۰۳)ومسلم ،حدیث نمبر:(۱۶۳۵)وغیرھما۔