کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 228
’’لقد دعا اللّٰہ باسمہ العظیم الذي إذا دعي بہ أجاب،وإذا سئل بہ أعطی‘‘[1] حقیقت میں اس شخص نے اللہ سے اس کے عظیم نام کے وسیلہ سے دعاء کی ہے کہ جب اس کے واسطہ سے اللہ سے دعاء کی جاتی ہے تو وہ قبول کر لیتا ہے اور جب اس کے واسطہ سے سوال کیا جاتا ہے تو عطا فرماتا ہے۔ ۱۶- والدین کے حق میں نیک اولاد کی دعاء: حضرت امام مالک سے روایت ہے ،وہ یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:’’بے شک آدمی اپنے مرنے کے بعد اپنی اولاد کی دعاء کے ذریعہ بلند کیا جاتا ہے‘‘،اورسعید نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھایا ۔[2] [1] ابوداؤد ۲/۸۰،وترمذی ۵/۵۵۰،وابن ماجہ ۲/۱۲۶۸،ونسائی ۳/۵۲،اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح النسائی(۱/۲۷۹)میں صحیح قرار دیا ہے۔ [2] موطأ امام مالک ۱/۲۱۷،محقق عبد الباقی فرماتے ہیں : ابن عبد البر نے فرمایا کہ یہ چیز رائے اور اجتہاد سے نہیں معلوم ہو سکتی ،یہ جید سند سے مروی ہے۔