کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 224
سے نجات دے دی،اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعوۃ ذي النون إذ دعا بھا وھو في بطن الحوت: ﴿ لَاْ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَاْنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّاْلِمِیْنَ﴾،فإنہ لم یدع بھا رجل مسلم في شيئٍ قط إلا استجاب اللّٰہ لہ‘‘[1] مچھلی والے(حضرت یونس علیہ السلام)نے جو دعا اس وقت کی تھی جب وہ مچھلی کے شکم میں تھے ،یہ تھی :﴿ لَاْ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَاْنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّاْلِمِیْنَ﴾اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ، [1] ترمذي ۵/۵۲۹،ومسنداحمد ۱/۱۷۰،وحاکم ۱/۵۰۵،وامام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ،عبد القادر الاناؤوط نے ’’الکلم الطیب‘‘کی تخریج(ص:۸۶)میں فرمایا ہے کہ حدیث امام حاکم و امام ذہبی کے قول کے مطابق(صحیح)ہے نیز حافظ ابن حجر نے اسے حسن قرار دیا ہے،اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الترمذي(۳/۱۶۸)میں صحیح قرار دیا ہے،نیز دیکھئے : اس کتاب کا ص:(۱۴۳)۔