کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 215
لہٰذا ان لوگوں کی بددعاؤں سے بچنا چاہئے کیوں کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ ۶- روزہ دار کی دعاء: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے : ’’ثلاثۃ لا ترد دعوتھم: الصائم حتی یفطر،والإمام العادل،ودعوۃ المظلوم یرفعھا اللّٰہ فوق الغمام،ویفتح لھا أبواب السماء،ویقول الرب: وعزتي لأنصرنک ولو بعد حین‘‘[1] تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں : روزہ دار کی یہاں تک کہ وہ افطار کرلے،انصاف پرور حاکم کی،اور مظلوم کی دعاء کو اللہ تعالیٰ [1] ترمذی(انہی الفاظ کے ساتھ)۵/۵۷۸،حدیث نمبر:(۳۵۹۸)،امام ترمذی نے اس حدیث کو ایک دوسری سند سے(اپنے شیخ کے بعد)بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے لیکن اس میں : ’’الصائم حین یفطر‘‘ کے الفاظ ہیں ،۴/۶۷۲،حدیث نمبر:(۲۵۲۶)شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح سنن الترمذي(۲/۳۱۱)میں صحیح قرار دیا ہے،وابن ماجہ ۱/۵۵۷،نیز اسے امام بغوی نے بھی روایت کیا ہے،۵/۱۹۶۔