کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 213
اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعوۃ المظلوم مستجابۃ،وإن کان فاجراً ففجورہ علی نفسہ‘‘[1] مظلوم کی بددعاء مقبول ہے خواہ وہ فاجر(بدکار)ہی ہو،تو اس کا فسق وفجور اس کی ذات پر ہے۔ اور کسی(عربی)شاعر نے کیا خوب کہا ہے: لا تظلمن إذا ما کنت مقتدراً فالظلم آخرہ یأتیک بالندم نامت عیونک والمظلوم منتبہ یدعو علیک وعین اللّٰہ لم تنم ترجمہ: جب تم طاقتور ہو تو ظلم نہ کرو،کیوں کہ ظلم کا انجام تمہارے پاس شرمندگی ہی لائے گا،تمہاری آنکھیں سو گئی ہیں جب کہ مظلوم بیدا ر ہے،اور تمہارے حق میں بددعاء کررہا ہے اور اللہ کی آنکھ نہیں سوئی ہے۔ [1] احمد ۲/۳۶۷،و مسندابوداؤد طیالسی،حدیث نمبر:(۱۲۶۶)،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ(۲/۴۰۷،حدیث نمبر:۷۶۷)اور صحیح الجامع(۳/۱۴۵،حدیث نمبر:(۳۳۷۷)میں صحیح قرار دیا ہے۔