کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 181
کھڑے نماز پڑھ رہے تھے،کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یحییٰ کی یقینی خوش خبری دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرنے والا،سردار،ضابط نفس اور نیک لوگوں میں سے نبی ہے۔ نیز ارشاد ہے: ﴿وَزَکَرِیَّاْ إِذْ نَاْدَیٰ رَبَّہُ رَبِّ لَاْ تَذَرْنِيْ فَرْداً وَّأَنْتَ خَیْرُ الْوَاْرِثِیْنَ،فَاسْتَجَبْنَاْ لَہُ وَوَھَبْنَاْ لَہُ یَحْیَی وَأَصْلَحْنَاْ لَہُ زَوْجَہُ إِنَّھُمْ کَاْ نُوْا یُسَاْرِعُوْنَ فِي الْخَیْرَاْتِ وَیَدْعُوْنَنَاْ رَغَباً وَّرَھَباً وَّکَاْنُوْا لَنَاْ خَاْشِعِیْنَ﴾ [1] اورزکریا علیہ السلام کو یاد کرو،جب انھوں نے اپنے رب سے دعاء کی کہ اے میرے رب!مجھے تنہا نہ چھوڑ تو سب سے بہتر وارث ہے،تو ہم نے ان کی دعاء قبول فرما کر انھیں یحییٰ عطا فرمایا،اور ان کی بیوی کو ان کے لئے صالح بنا دیا،یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے،اور ہمیں لالچ،طمع،اور ڈر و خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ [1] سورۃ الأنبیاء: ۸۹،۹۰۔