کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 179
رب کو پکارا کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے،تو ہم نے ان کی دعاء سن لی ،اور جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کردیا،اور انہیں اہل و عیال عطا فرمائے،بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی رحمت خاص سے ،تاکہ عبادت کرنے والوں کو نصیحت ہو۔ ۵- یونس علیہ الصلاۃ والسلام: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَذَا النُّوْنِ إِذْ ذَّھَبَ مُغَاْضِباً فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَاْدَی فِي الظُّلُمَاْتِ أَنْ لَّاْ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَاْنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّاْلِمِیْنَ،فَاسْتَجَبْنَاْ لَہُ وَنَجَّیْنَاْہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [1] اور مچھلی والے(یونس علیہ السلام)کو یاد کرو،جب وہ غصہ سے نکل گئے اور سوچا کہ ہم انہیں پکڑ نہ سکیں گے،بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے [1] سورۃ الأنبیاء: ۸۷،۸۸۔