کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 174
نیز ارشاد ہے: ﴿وَنُوْحاً إِذْ نَاْدَیٰ مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَاْ لَہُ فَنَجَّیْنَاْہُ وَأَھْلَہُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ،وَنَصَرْنَاْہُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِآیَاْتِنَاْ إِنَّھُمْ کَاْنُوْا قَوْمَ سَوْئٍ فَأَغْرَقْنَاْھُمْ أَجْمَعِیْنَ﴾ [1] نوح علیہ السلام کے اس وقت کو یاد کیجئے جب کہ اس نے اس سے پہلے دعاء کی،تو ہم نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی عظیم مصیبت سے نجات دلائی،اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلا رہے تھے ان کے مقابلہ میں ہم نے ان کی مدد کی ،یقینا وہ برے لوگ تھے،تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَکَذَّبُوْا عَبْدَنَاْ وَقَاْلُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ،فَدَعَاْ رَبَّہُ أَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ،فَفَتَحْنَاْ أَبْوَاْبَ السَّمَاْئِ بِمَاْئٍ مُّنْھَمِرٍ،وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوْناً فَالْتَقَی الْمَاْئُ عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ،وَحَمَلْنَاْہُ عَلَی ذَاْتِ أَلْوَاْحٍ وَّدُسُرٍ، [1] سورۃ الأنبیاء: ۷۶،۷۷۔