کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 167
کرتے،پھر دوسرے جمرے کے پاس آتے،اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے،اور جب جب کنکری مارتے تکبیر کہتے،پھر بائیں جانب وادی سے قریب والی جہت میں اترتے،اور قبلہ رو ہوکر کھڑے ہوتے اور دعاء فرماتے،پھر گھاٹی کے پاس والے جمرے کے پاس آتے اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے،اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے،پھر پلٹ جاتے اور وہاں نہ ٹھہرتے ۔[1] ۲-کعبہ کے اندر یا حجر(غیر تعمیر شدہ حصہ)کے اندر دعاء کرنا: حضرت اسامہ بن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانۂ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام گوشوں میں دعاء فرمائی ۔[2] حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،اسامہ بن زید،بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ کو خانۂ کعبہ کے اندر دیکھا،انھوں نے اندر ہو کر دروازہ بند کر لیا،جب دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں تھا،میں نے بلال سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز پڑھی؟ انھوں نے فرمایا: [1] بخاری،۲/۱۹۴،بروایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما۔ [2] مسلم ۲/۹۶۸،حدیث نمبر:(۱۳۲۰)۔