کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 164
وہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح خوانی کر رہے ہیں ،تیری بڑائی بیان کررہے ہیں ،تیری حمد و ثنا کررہے ہیں ،اور تیری بزرگی بیان کررہے ہیں ۔۔۔،حدیث طویل ہے اسی میں آگے ہے،کہ پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا،فرماتے ہیں کہ ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے کہ فلاں شخص ان میں سے نہیں بلکہ وہ کسی ضرورت سے آیا تھا،تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ ایسے ہم نشین ہیں کہ ان میں آکر بیٹھ جانے والا بھی بدبخت نہیں ہوتا۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’لا یقعد قوم یذکرون اللّٰہ عز وجل إلا حفتھم الملائکۃ ،وغشیتھم الرحمۃ،ونزلت علیھم السکینۃ،وذکرھم اللّٰہ فیمن عندہ‘‘[1] جو بھی جماعت اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے اسے فرشتے [1] مسلم ۴/۲۰۷۴،کتاب الذکر والدعاء ،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن والذکر،بروایت ابو ہریرہ و ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما،حدیث نمبر:(۲۷۰۰)۔