کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 153
فرشتوں کے قول سے موافق ہو گی اس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ ۲۳- آخری تشہد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھجنے کے بعد: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں : میں نماز پڑھ رہا تھااور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ تھے،جب میں بیٹھا تو سب سے پہلے میں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ،پھر میں نے اپنے لئے دعاء کی،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سل تعطہ،سل تعطہ‘‘،مانگو عطا کیا جائے گا،مانگو عطا کیا جائے گا۔[1] (ب)حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس نے اللہ کی پاکی بیان کی ‘ اس کی حمد وثناء کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] ترمذي،۲/۴۸۸،امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے،ونسائی،واحمد ۱/۲۶ و۳۸،اور اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترمذی(حدیث نمبر:۲۷۶۵)اور صحیح النسائی(حدیث نمبر:۱۲۱۷)میں صحیح قرار دیا ہے۔