کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 132
آواز لگاتا ہے: ہے کوئی دعاء کرنے والا جس کی دعاء قبول کرلی جائے،ہے کوئی مانگنے والا جسے دے دیا جائے،ہے کوئی پریشان حال جس کی پریشانی دور کردی جائے،چنانچہ جوبھی مسلمان کچھ بھی دعاء کرتا ہے اللہ عز وجل اس کی دعاء قبول کر لیتا ہے ،سوائے اس فاحشہ عورت کے جو اپنی شرمگاہ کے ذریہ بدکاری کرتی ہے ،یا چنگی لینے والا(حرام خور،ذبردستی ٹیکس وصول کرنے والا)۔ اللہ عز وجل نے سحر کے وقت مغفرت طلب کر نے والوں کی تعریف فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد ہے: ﴿کَاْنُوْا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْلِ مَاْ یَھْجَعُوْنَ،وَبِالْأَسْحَاْرِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴾ [1] وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے،اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے۔ ۴- اذان اور اقامت کے درمیان: [1] سورۃ الذاریات: ۱۷،۱۸،نیز دیکھئے: سورۃ آل عمران:۱۷۔