کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 120
(۱۶)-دعاء کرنے والا جب کسی اورکے لئے دعاء کرے تو پہلے اپنے لئے دعاء کرے: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو یاد کر کے اس کے لئے دعاء کرتے تو پہلے اپنے لئے دعاء کرتے تھے۔[1] اور یہ بھی ثابت ہے کہ بعض موقعوں پر آپنے اپنے لئے دعاء نہیں کی،جیسے حضرت انس،ابن عباس،اور ام اسماعیل رضی اللہ عنہم کے لئے آپ کا دعاء فرمانا۔[2] (۱۷)-دعاء میں حد سے تجاوز نہ کرے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا کہ: ’’اے [1] ترمذي،۵/۴۶۳،اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،اور شیخ عبدالقادر الارناؤوط نے اس حدیث کو جامع الأصول کی تخریج(۴/۱۷۵)میں حسن قرار دیا ہے۔ [2] دیکھئے: شرح النووی علی صحیح مسلم،۱۵/۱۴۴،وفتح الباری،۱/۲۱۸،وتحفۃ الاحوذي شرح سنن الترمذي،۹/ ۳۲۸۔