کتاب: دعا کے آداب و شرائط کتاب وسنت کی روشنی میں - صفحہ 106
اور فرمایا:’’ اللھم حوالینا ولا علینا‘‘ ،اے اللہ ہم پر نہیں بلکہ ہمارے آس پاس بارش برسا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے جس سمت بھی اشارہ فرماتے بدلی چھٹتی چلی جاتی،اور مدینہ گھڑے کی مانند ہوگیا،اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی،اور جو شخص بھی مدینہ کے اطراف سے آتاوہ کثرت بارش ہی کی بات کرتا۔[1] اور اسی قبیل سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی والدہ کی بابت اسلام کی ہدایت کے لئے دعاء کی درخواست کرنا بھی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ماں کے لئے دعاء فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی ۔[2] اور اسی ضمن میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کے لئے بارش طلبی کی دعاء کی درخواست کرتے تھے،تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ انہیں ان کی دعاء سے سیراب کرتا تھا۔[3] [1] بخاری،۱/۲۲۴،ومسلم،۲/۶۱۲،حدیث نمبر:(۸۹۷)۔ [2] مسلم،۴/۱۹۳۹،نیزاس حدیث کی تخریج ص:(۱۹۸)میں بھی آئے گی۔ [3] دیکھئے:بخاری مع فتح الباری،۲/۴۹۴،کتاب الاستسقاء باب سؤال الناس الامام اذا قحطوا،حدیث نمبر:(۱۰۰۸)۔