کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 96
لاَ یُمْکِنُ وَلاَءُ بَیْنَ الْکُفَّارِ وَالْمُسْلِمِیْنَ مسلمانوں اور کافروں میں دوستی ناممکن ہے مسئلہ 51:مسلمان او رکافر دو مختلف گروہ ہیں،جن میں اتحاد یا دوستی ممکن نہیں۔ ﴿قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ،لآَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ،وَ لآَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ،وَ لآَ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ،وَ لاَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ،لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ﴾(109:1-6) ’’(اے محمد!)کہہ دو،اے کافرو!میں ان کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم کرتے ہو،نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔‘‘(سورۃ الکافرون،آیت نمبر6-1) عَنْ جَرِیْرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((لاَ تَرَایَا نَارَاہُمَا))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[1] حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مسلمانوں اور کافروں کی آگ اکٹھی نہیں جل سکتی۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 52:مسلمانوں اور کافروں کی شریعت الگ الگ ہے،لہٰذادونوں میں اتفاق اور اتحادنا ممکن ہے۔ ﴿وَلَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ج وَ مَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ ج وَ مَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط﴾(145:2) ’’تم ان اہل کتاب کے پاس کوئی سی نشانی لے آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے نہ ہی تمہارے لئے ممکن ہے کہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کروان دونوں گروہوں میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے [1] کتاب الجہاد، باب النہی عن قتل من اعتصم بالسجود.