کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 90
مسئلہ 29:اصحاب الاخدودنے مسلمانوں کومحض اس لئے آگ میں جلا یا کہ وہ ایک اللہ کی ذات پر ایمان لائے تھے۔ ﴿وَ مَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلآَّ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ،الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ﴾(85:7-8) ’’ اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔زمین اورآسمانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔(سورۃ البروج،آیت نمبر7-8) مسئلہ 30:کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہل ایمان کو محض اس لئے جلا وطن کیا کہ وہ اپنے اللہ پر ایمان لائے تھے۔ ﴿یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ ط﴾(1:60) ’’کفار نے رسول کو اور تمہیں صرف اس لئے جلا وطن کیا کہ تم لوگ اپنے رب اللہ پر ایمان لائے۔‘‘(سورۃ الممتحنہ،آیت نمبر1) مسئلہ 31:کفار،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس لئے قتل کرنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:بَیْنَا النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُصَلِّیْ فِیْ حِجْرِ الْکَعْبَۃِ اِذْ اَقْبَلَ عُقْبَۃُ ابْنُ اَبِیْ مُعِیْطٍ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ فَخَنَّقَہٗ خَنْقًا شَدِیْدًا فَاَقْبَلَ اَبُوْبَکْرٍ رَضی اللّٰه عنہ حَتّٰی اَخَذَ بِمَنْکِبِہٖ وَ دَفَعَہٗ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ أَ تَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اپنی چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال دی اور زور سے گھونٹنے لگا اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور فرمایا ’’کیا تم ایک آدمی کو محض اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرارب اللہ ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم لو کنت متخذا خلیلا.