کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 86
مسئلہ 19:کفار نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو جلا وطن کرنے کی سازش کی۔ ﴿فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلّآاَنْ قَالُوْآ اَخْرِجُوْآ اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ﴾(56:27) ’’لوط کی قوم نے ان کی دعوت کا جواب یہ دیا کہ انہوں نے آپس میں کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔‘‘(سورۃ النمل،آیت نمبر56) مسئلہ 20:حضرت شعیب علیہ السلام کو کفار نے سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ ﴿قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ج وَ لَوْ لاَ رَہْطُکَ لَرَجَمْنٰـکَ ز وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ﴾(91:11) ’’کافروں نے کہا اے شعیب!تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تجھے اپنے درمیان ایک کمزور آدمی پاتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اورتو ہم سے زیادہ طاقتور نہیں ہے۔‘‘(سورۃ ہود،آیت نمبر91) مسئلہ 21:حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ ﴿وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ ٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ ج اِنِّیْ ٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ﴾(26:40) ’’(بالآخر)فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا چھوڑو مجھے میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو،مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کردے گا۔‘‘(سورۃ المؤمن،آیت نمبر26) مسئلہ 22:یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ ﴿وَ قَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام،لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا﴾