کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 84
عَــدَاوَۃُ الْکُفَّــارِ لِلْاِسْـــلاَمِ کفار کی اسلام دشمنی مسئلہ 13:کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں۔ ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ﴾(1:60) ’’اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔‘‘(سورۃ الممتحنہ،آیت نمبر1) مسئلہ 14:کفار فرشتوں کے دشمن ہیں۔ ﴿قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ ہُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ،مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَجِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ﴾(98-97:2) ’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کہو جو شخص جبریل کا دشمن ہے(اسے معلوم ہونا چاہئے)کہ جبرائیل نے ہی اس قرآن کو اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اہل ایمان کے لئے ہدایت اور خوش خبری ہے جو شخص اللہ کا،اس کے فرشتوں کا،اس کے رسولوں کا،جبریل کا اور میکائیل کا دشمن ہے،اللہ خود(ایسے)کافروں کا دشمن ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ،آیت نمبر98-97) مسئلہ 15:کفار،انبیاء کے دشمن ہیں۔ ﴿وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَط وَکَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّ نَصِیْرًا﴾(31:25) ’’(اے محمد)ہم نے اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تیرا رب تیری رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے۔‘‘(سورۃ الفرقان،آیت نمبر31) وضاحت: اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ جس طرح مکہ کے کافر آپ کے دشمن بن گئے ہیں اسی طرح کافر ہر زمانے میں ہر نبی کے دشمن