کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 82
مَــنْ ہُــوَ الْکُفَّــــارُ؟ کافر کون ہیں؟ مسئلہ 4:اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔ مسئلہ 5:رسولوں کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔ مسئلہ 6:اللہ تعالیٰ کو ماننے والے اور رسولوں کو نہ ماننے والے بھی کافر ہیں۔ مسئلہ 7:بعض رسولوں کو ماننے والے اور بعض کو نہ ماننے والے بھی کافر ہیں۔ ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍلا وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا،اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا ج وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا﴾(151-150:4) ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں اور کہتے ہیں کہ کسی پیغمبر کو مانیں گے کسی کو نہیں مانیں گے اور(اس طرح)وہ کفر وایمان کی درمیانی راہ اختیار کرناچاہتے ہیں وہ سب پکے کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘(سورۃ النساء،آیت نمبر151-150) مسئلہ 8:یہودی کافر ہیں۔ ﴿ہُوَ الَّذِیْ ٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ط﴾(2:59) ’’وہی ذات ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا۔‘‘(سورۃ الحشر،آیت نمبر2) وضاحت: اس آیت میں اہل کتاب کافروں سے مراد بنو نضیر کا یہودی قبیلہ ہے جن کی بار بار بدعہدیوں کے باعث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ سے باہر نکال دیا۔