کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 71
پرستانہ فکر اور خود غرضی کی سوچ عام ہے۔اسلامی اقدارتو کیا انسانی اقدار تک ماند پڑ گئی ہیں۔قرابت داری اور رشتوں کے تقدس اور احترام کا تصور قصہ پارینہ بنتا جارہا ہے۔اس نفسا نفسی کے عالم اور مادہ پرستانہ سوچ نے انسان کے ساتھ اس کے مالک حقیقی اور محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتوں کو بھی کہیں کمزور کہیں بہت کمزور اور کہیں طاق نسیاں بنا دیا ہے۔الولاء والبراء لکھنے کی غرض و غایت یہی ہے کہ مسلمان اپنے مالک حقیقی اور محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے رشتوں کومضبوط بنائیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر اپنے دلوں میں بھریں اور پھر اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اسی طرح پوری دنیا میں مسلمان بھائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور رشتوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں استوار کریں اور کفار،جو اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں،ان سے شعوری طور پر بیزاری،نفرت اور دشمنی کا اظہار کریں۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اگرکسی ایک فرد کی سوچ میں بھی مثبت تبدیلی پیدا ہوگئی تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت ٹھکانے لگ گئی اوربعید نہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے میری بخشش کا ذریعہ بھی بنا دیں۔اِنَّہٗ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ مَلِکٌ بَرٌّ رَئُ وْفٌ رَحِیْمٌ کتاب میں خیر اور بھلائی کے تمام پہلو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس کی غلطیاں اور خامیاں میرے نفس کے شراور شیطان کی طرف سے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس کے خیر اور بھلائی کے پہلوؤں کو شرف قبولیت سے نوازیں اور اپنے عفو و کرم کے باعث غلطیوں اور خامیوں کو معاف فرمائیں۔آمین! کتاب میں صحت احادیث کا پورا پورا اہتمام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے لئے حسب سابق شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق پر زیادہ تر اعتماد کیا گیا ہے تاہم کسی بھی غلطی کی نشاندہی پر اہل علم کا ممنون احسان ہوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تفہیم السنہ کی اگلی کتاب ’’فضائل قرآن ‘‘ہوگی۔ان شاء اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو مغلوب کرنے کی حالیہ منصوبہ بندی میں کفار کا سب سے اہم ہدف قرآن مجید ہے۔جسے وہ مسلمانوں کی زندگیوں سے خارج کرنا چاہتے ہیں اور اس کا وہ برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔گزشتہ صفحات میں آپ نیوزو یک کی ہرزہ سرائی پڑھ چکے ہیں،سکولوں اور کالجوں میں نصاب تعلیم کو بدلنے کے پس منظر میں دراصل یہی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔