کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 64
جس پر غیر اللہ کا نام لیاجائے کفارکے نزدیک یہ ساری چیزیں جائز اور حلال ہیں ان کے استعمال کی اکثروبیشتر اشیاء میں خون اور سور کے گوشت یاچربی یا ہڈی یاآنتوں کا استعمال ہوتاہے لہٰذاایسی اشیاء خریدنے یا ان کی تجارت کرنے کی اجازت نہ عقیدہ البراء دیتاہے نہ اللہ تعالیٰ کا قانون حلال و حرام۔جومسلمان ایساکرے گا وہ اپنے سردُہراوبال لے گااور قیامت کے روز دُہری سزا پائے گا۔ 2 اسلام دشمن کفار کی وہ مصنوعات جوبذات خود حلال اور طیب ہیں مثلاًفاسٹ فوڈ وغیرہ اور ان کی متبادل مسلمان کمپنیوں کی اشیاء مارکیٹ میں دستیاب ہیں،ان کا معاشی مقاطعہ کرناتمام مسلمانوں پر واجب ہے۔ 3 غیرمسلم کمپنیوں کی ایسی مصنوعات جوبذات خود حلال اور طیب ہوں لیکن ان کہ جگہ مسلم کمپنیوں کی تیار کردہ متبادل مصنوعات موجود نہ ہوں ایسی اشیاء اسلام دشمن کفار کے بجائے بے ضرر کفار کی کمپنیوں سے مجبوری اور کراہت کے ساتھ خریدنے میں انشاء اللہ حرج نہیں ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب! 4 ایسی مصنوعات جن کا حلال یا حرام سے تعلق نہیں مثلاًسائنسی ایجادات اور ٹیکنالوجی وغیرہ ایسی مصنوعات میں بھی اسلام دشمن کفار کے بجائے بے ضررکفار سے لین دین کرنے کی رخصت ہے اگرچہ مطلوب یہ ہے کہ ان چیزوں میں بھی مسلمان خودکفیل ہوں۔ اس وضاحت کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ کفار کی مصنوعات،خواہ ان کا تعلق روزمرہ استعمال کی اشیاء سے ہویاسائنس اورٹیکنالوجی سے،ان کا متبادل تیار کرنا بھی مسلمانوں پرواجب ہے ملک کے اندر وسائل بھی موجودہوں اور ذہین افرادکی بھی کمی نہ ہو اس کے باوجود محض کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر بے شمار روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کے لئے مسلمانوں کی کثیر دولت یہود وہنود کے ہاتھوں میں چلی جائے،جومسلمانوں کوہی تباہ وبربادکرنے پرخرچ ہوتی ہے،تو یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں۔معاشی مقاطعہ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اس بات کی فکربھی کرنی چاہئے کہ کفار کی جن مصنوعات کامتبادل نہیں ان کا متبادل تیارکیاجائے تاکہ مسلمان عوام کی دولت مسلمان تاجروں کے ہاتھوں میں ہی رہے اس نیت سے مصنوعات کی تیاری بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب کاباعث ہوگی۔انشاء اللہ! اَلْوَلاَء وَالْبَرَاء ہی راہ نجات ہے: واقعات اور حالات نے اب یہ بات صد فیصد ثابت کردی ہے کہ تین چار سال قبل مغرب سے اٹھنے