کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 56
حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک سمجھتے ہیں جبکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک سمجھتے ہیں،ہندو اپنی قوم کی عظیم شخصیتوں کے بت بنا کر انہیں پوجتے ہیں،اس کے علاوہ گائے،گائے کا مکھن،گائے کا دودھ،گائے کا پیشاب،گائے کا گوبر،تمام چیزوں کی پوجا کرتے ہیں،بندر،بیل،آگ،پیپل،ہاتھی،سانپ،چوہا،سؤر اور جوتے بھی ان کے معبودوں میں شامل ہیں۔شیو مہاراج کی پوجا اس کے مردانہ عضو تناسل کی پوجا کرکے کی جاتی ہے اور شکتی دیوی کی پوجا اس کے زنانہ عضو تناسل کی پرستش کرکے کی جاتی ہے،بدھ مت کے پیروکار گوتم بدھ کے مجسموں اور مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں،جین مت کے پیروکار،مہاویر کے مجسموں اور مورتیوں کے علاوہ سورج،چاند،ستاروں،حجر،شجر،دریا،سمندر،آگ اور ہوا کی بھی پرستش کرتے ہیں۔کیا مسلمانوں اور کافروں کا عقیدہ اور نظریہ ایک جیسا ہے؟ 2 مسلمانوں کی شریعت میں بعض رشتوں کے درمیان نکاح حرام ہیں،جن میں والدہ،دادی،نانی،بیٹی،پوتی،نواسی،بہن،پھوپھی،خالہ،بھتیجی،بھانجی،ساس،بہو اور رضاعی ماں بہن بھی شامل ہیں جبکہ مغرب میں حرام رشتوں کا کوئی تصور ہی نہیں۔نئی نسل میں اکثریت ایسے بچوں کی ہے جنہیں اپنے باپ کا علم ہی نہیں ہوتا۔ہندو مذہب میں رشتوں کی حرمت کا اندازہ درج ذیل دو خبروں سے لگایا جا سکتا ہے [1] [2] غور فرمائیے!کیا مسلمانوں کا اور کفار کا طرز معاشرت اور تہذیب وتمدن ایک ہی ہے؟ 3 مسلمانوں کی شریعت میں مرد بیک وقت چار شادیاں کر سکتا ہے لیکن عورت بیک وقت ایک ہی شادی کرسکتی ہے جبکہ کفار کی تہذیب میں مرد کئی گرل فرینڈ زبنا سکتا ہے اور عورت بھی کئی بوائے فرینڈز بنا سکتی ہے۔ [1] اردو نیوز ، جدہ، 20مارچ 2004ء. [2] اردو نیوز ، جدہ، 31اکتوبر2003ء.