کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 24
باتیں سنے گاجس سے اس کی سوچ اور اعمال دونوں بگڑیں گے اور دنیا وآخرت میں اس کا نقصان ہوگا۔اس لئے اہل ایمان کو حکم یہ ہے کہ وہ صرف نیک اورمتقی لوگوں سے ہی دوستی کریں۔ایک حدیث میں ارشاد مبارک ہے((وَ لاَ تُصَاحِبْ اِلاَّ مُؤْمِنًا وَلاَ یَاکُلُ طَعَامَکَ اِلاَّ تَقِیٌّ))’’یعنی مومن آدمی کے علاوہ کسی کواپنا دوست نہ بنااور تیرا کھانا صرف متقی آدمی ہی کھائے۔‘‘(ترمذی) حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاچچاابوطالب مرنے لگاتو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہنے کی ترغیب دلائی لیکن پاس ہی ابوطالب کے دوست ابوجہل بن ہشام،عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھے تھے ان دونوں نے ابو طالب کوآباؤاجدادکے دین پرمرنے کی رغبت دلائی بالآخرابوطالب اپنے مشرک دوستوں کی باتوں میں آگئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں چلے گئے۔عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔فتح مکہ کے موقع پر صفوان بن امیہ جان کے خطرے سے بھاگ گیا،حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دوست کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان طلب کی اور جاکر صفوان بن امیہ کو واپس لائے صفوان بن امیہ کی بیوی پہلے ہی مسلمان ہوچکی تھیں،امان ملنے کے چند دن بعد حضرت صفوان بھی ایمان لے آئے اور اپنے دوست کی مہربانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں چلے گئے،اس آدمی کی خوش بختی اور خوش نصیبی کا کیا کہناجواپنے دوست کی وجہ سے جنت میں چلا جائے اور اس آدمی کی بدبختی اور بدنصیبی کا کیا ٹھکاناجو اپنے دوست کی وجہ سے جہنم میں چلاجائے۔ ایک طرف دوستی اور محبت کی یہ اہمیت نگاہ میں رکھئے اور دوسری طرف ایک نظروطن عزیز مین نوجوان نسل پرڈالئے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت اپنے انجام سے بے خبرسٹیج ڈراموں کے اداکاروں،فلمی ستاروں،ٹی وی میں کام کرنے والوں اور کھلاڑیوں سے اس حد تک محبت کرتی ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی دنوں میں فیشن بدل جاتے ہیں۔فلمی ستاروں اور اداکاروں کا لباس،تراش خراش،چال ڈھال،عادات واطوارحتی کہ ان کا انداز گفتگوتک اپنانے میں لڑکے اورلڑکیاں فخرمحسوس کرتی ہیں۔اپنے اسلاف اور بزرگوں کے ناموں،کارناموں اور قربانیوں سے ناواقف نسل اپنے آئیڈیل فلمی ستاروں کے ناموں،حالات،واقعات سے ہی نہیں بلکہ ان کی ذاتی زندگی تک کے سارے معاملات سے اس حد تک واقف ہوتی ہے کہ ان کے کھانے پینے کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ اشیاء تک جانتی ہے ہمارے ملک کے تمام ذرائع ابلاغ(الا ماشاء اللہ)ریڈیو،ٹی وی،روزنامے،ہفت روزے،ماہنامے،اور دیگررسائل وجرائد نئی نسل کی ’’راہنمائی ‘‘کا یہ فریضہ بڑی محنت اور