کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 22
کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سوا رکھا ہی کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو خود ساری دنیا کو ’’متاع الغرور‘‘ دھوکے کا سامان کہا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’دنیا اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر کے،اور جسے اللہ محبوب رکھے اور سوائے عالم اور متعلم کے۔‘‘(ابن ماجہ)پس جس آدمی کے پاس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت ہے اگر وہ ساری دنیا کی نعمتوں سے بھی محروم ہے تب بھی بڑا خوش نصیب،بڑا خوشحال اور بڑا خوش قسمت ہے اور جس کا دامن اللہ اور اسکے رسول کی محبت سے خالی ہے وہ اس ویران برباد اور اجڑے گھر کی مانند ہے جس سے کبھی باد نسیم کا گزر نہ ہوا ہو۔اگر اس کے پاس ساری دنیا کی نعمتیں بھی موجود ہوں تب بھی وہ دنیا کاسب سے بڑا بد نصیب،تہی دامن اور محروم شخص ہے۔ یاد رکھئے!آنے والا وقت اپنے ساتھ شدید شرور و فتن لئے چلا آرہا ہے۔آج ہرشخص اپنی آنکھوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی پوری ہوتے دیکھ رہاہے کہ’’ میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح(پے درپے)گرتادیکھ رہاہوں۔‘‘(بخاری)ان فتنوں سے صرف وہی شخص بچے گاجس کا دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت سے سرشار ہے پس جولوگ اپنے گھروں کوآنے والے شروروفتن سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے اہل و عیال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔نماز،روزہ اور تلاوت قرآن کو حرزجان بنائیں،اپنے بچوں کے نام ’’اللہ‘‘اور ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے ناموں کے ساتھ رکھیں،روزمرہ کی گفتگو میں بچوں کو ’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘،’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ‘‘،’’ مَاشَائَ اللّٰہُ‘‘ اور’’ جَزَاکَ اللّٰہُ‘‘ جیسے پاکیزہ کلمات کہنے کی عادت ڈالیں،انہیں اسمائے حسنیٰ یاد کروائیں،ہرکام سے پہلے بسم اللہ کہنا سکھائیں،گھر میں آتے جاتے چھوٹوں بڑوں سے ملتے وقت بکثرت السلام علیکم کہنے کی عادت ڈالیں،سونے جاگنے،کھانے پینے،بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے،گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں یاد کرائیں۔صدقہ خیرات بچوں کے ہاتھوں سے کروائیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کے ایمان افروز واقعات،مجاہدین اور شہداء کے جذبہ شہادت پر مبنی ایمان پرور واقعات سنائیں۔مساجد میں پابندی سے جانے کی عادت ڈالیں۔علماء اور صلحاء کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے کی ترغیب دلائیں۔یہ چھوٹے چھوٹے اعمال ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس طرح بھردیں گے کہ زندگی اور موت کا کوئی فتنہ اس محبت پر اثرانداز نہ ہوسکے گا۔ان شاء اللہ،اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ محبت نہ صرف اس دنیا میں ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے گی بلکہ آخرت میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا باعث بنے گی۔ان شاء اللہ!ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم