کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 193
’’اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں ہم ان کا جواب کس طرح دیں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کہو،وعلیکم۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 221:کافروں کی مادی ترقی،دنیاوی خوشحالی اور شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا جائے نہ رشک کیا جائے۔ ﴿وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی﴾(131:20) ’’اے محمد!ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیوی شان و شوکت دے رکھی ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لئے دی ہے۔اصل میں تو تیرے رب کا(دیا ہوا)رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔‘‘(سورۃ طٰہٰ،آیت نمبر131) مسئلہ 222:دین کے معاملہ میں کفار و مشرکین کا حکم نہ مانا جائے خواہ وہ اپنے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا ط وَ اِنْ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْہُمَا ط اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾(8:29) ’’اور ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تیرے پاس کوئی علم(یعنی ثبوت)نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر تم سب کو میری ہی طرف پلٹنا ہے پھر میں تم کو بتاؤں گا تم کیا کرتے رہے ہو۔‘‘(سورۃ العنکبوت،آیت نمبر8) مسئلہ 223:شدید ضرورت کے باوجود کفار اور مشرکین سے اقتصادی امداد نہ لی جائے۔ عَنْ اَنَسْ بِنْ مَالِکْ عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہَ االْجُوْعَ وَرَفَعْنَا عَنْ بُطُوْنِنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ حَجَرَیْنِ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[1] [1] کتاب الزھد ، عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم باب ماجاء فی معیشۃ اصحاب النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم.