کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 191
مسئلہ 215:کفارو مشرکین سے مشابہت اختیار نہ کی جائے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[1] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے کسی(دوسری)قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے وضاحت: کفار و مشرکین کی جن چیزوں میں مشابہت سے روکا گیا ہے وہ یہ ہیں:1.عقائد۔2. عبادات۔3. مذہبی شعائر۔4.تہوار اور …عادات واطوار اور طرز ِمعاشرت۔ مسئلہ 216:کفار و مشرکین کی دل سے تعظیم نہ کی جائے۔ ﴿وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ﴾(8:63) ’’عزت تو صرف اللہ،اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔‘‘(سورۃ المنافقون،آیت نمبر8) وضاحت: کفار و مشرکین کی تعظیم نہ کرنے میں کفارو مشرکین کے شعائر(مثلاً صلیب وغیرہ)کفار کے تہوار(مثلاً کرسمس ڈے وغیرہ)کفار کے مذہبی مقامات(مثلاً گرجا وغیرہ)اور ان کے مذہبی راہنما(مثلاً پوپ)وغیرہ بھی شامل ہیں۔یادرہے تعظیم نہ کرنے سے مراد ان چیزوں کو گالی دینا،برا بھلا کہنا یا لعن طعن کرنا ہرگز نہیں بلکہ انہیں وہ مقام اور مرتبہ دینا ہے جو مسلمان اپنے شعائر(مثلاً قرآن مجید)اپنے تہوار(مثلاً عیدین)اپنے مذہبی مقامات(مثلاً مساجد)او راپنے مذہبی راہنماؤں(مثلاً ائمہ کرام اور فقہا ء عظام)کو دیتے ہیں۔ مسئلہ 217:احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے لیڈروں اور دانشوروں کے اقوال کو ’’ اقوال زریں ‘‘کہہ کر پیش نہ کیا جائے۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((اَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَ خَیْرَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ وَ شَرُّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَ کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَ لَۃِ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[2] حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’حمد و ثنا کے بعد(یاد رکھو)بہترین بات اللہ [1] کتاب اللباس ، باب فی لبس الشہرۃ(2؍3401). [2] کتاب الجمعۃ ، باب رفع الصوت بالخطبۃ.