کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 188
روایت کیا ہے۔ مسئلہ 212:کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی عام مسلمان کے مقابلہ میں قابل احترام نہ سمجھا جائے نہ ہی کفار کے مفادات کو مسلمانوں کے مفادات پر ترجیح دی جائے۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَشْرَجِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّہٗ جَائَ یَوْمَ الْفَتْحِ مَعَ اَبِیْ سُفْیَانَ بْنِ حَرَبٍ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم حَوْلَ اَصْحَابِہٖ فَقَالُوْا ہٰذَا اَبُوْ سُفْیَانَ وَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((ہٰذَا عَائِذُ بْنُ عَمْروٍ رضی اللّٰه عنہ وَ اَبُوْ سُفْیَانَ،أَلْإِسْلاَمُ اَعَزُّ مِنْ ذٰلِکَ،أَلْإِسْلاَمُ یَعْلُوْا وَ لاَ یُعْلٰی))رَوَاہُ الدَّارَ قُطْنِیُّ وَالْبَیْہَقِیُّ [1] (حسن) حضرت عبداللہ بن حشرج اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے روز ابو سفیان بن حرب کے ساتھ حاضر ہوئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ’’یہ ابو سفیان(ابھی اسلام نہیں لائے تھے لیکن قریشی سرداروں میں سے تھے)اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ(یہ مسلمان تھے لیکن عام آدمی تھے)آئے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’(نہیں یوں کہو)یہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان آئے ہیں۔اسلام(کفر کے مقابلہ میں)بہت زیادہ عزت والا ہے۔اسلام غالب ہے مغلوب نہیں۔‘‘ اسے دار قطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے وضاحت: 1 بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر مسلم حکمرانوں اور سفیروں کو پروٹوکول مہیا کرنا اور بات ہے ان سے قلبی دوستی کرنا یا دل سے ان کا احترام کرنا دوسری بات ہے۔اسلام نے دوسری بات سے منع فرمایا ہے۔ 2.کفار کے مفادات کو ترجیح نہ دینے سے مراد یہ ہے کہ اگر حصول علم کے لئے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے موجود ہوں تو کفار کے تعلیمی اداروں کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔مسلمانوں کا مال تجارت اور مصنوعات موجود ہوں تو کفار کے مال تجارت اور مصنوعات کو ترجیح نہیں دینی چاہئے،مسلمانوں کی افرادی قوت موجود ہو تو کفار کی افرادی قوت کو ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ مسئلہ 213:اسلامی ریاست کو چھوڑ کر کافر ملک میں رہائش اختیار نہ کی جائے۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضی اللّٰه عنہ اَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم((مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِکَ وَ سَکَنَ مَعَہٗ فَاِنَّہٗ مِثْلُہٗ))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[2](صحیح) [1] ارواء الغلیل ،للالبانی ، رقم الحدیث 1268(5؍10). [2] کتاب الجہاد ، باب فی الاقامۃ بارض المشرک.