کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 187
﴿وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ ج لاَ تَعْلَمُوْنَہُمْ ج اَللّٰہُ یَعْلَمُہُمْ ط وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَیِبْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ﴾(60:8) ’’جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقتور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لئے تیار رکھو تاکہ اس کے ذریعہ تم لوگ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان دشمنوں کو بھی جنہیں اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔اللہ کی راہ میں تم جو کچھ خرچ کروگے اس کا تمہیں بھرپور اجردیا جائے گااور تمہارا حق مارا نہیں جائے گا۔‘‘(سورۃ الانفال،آیت نمبر60) مسئلہ 211:کفار کے سامنے اپنی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہونے دی جائے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَاَصْحَابُہٗ مَکَّۃَ وَ قَدْ وَہَنَتْہُمْ حُمّٰی یَثْرِبَ قَالَ الْمُشْرِکُوْنَ اِنَّہٗ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَہَنَتْہُمُ الْحُمّٰی وَ لَقُوْا مِنْہَا شِدَّۃً فَجَلَسُوْا مِمَّا یَلِی الْحِجْرَوَ اَمَرَہُمُ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم اَنْ یَرْمُلُوْا ثَلا َثَۃَ اَشْوَاطٍ وَّ یَمْشُوْا مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ لِیُرِیَ الْمُشْرِکِیْنَ جَلَدَہُمْ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ ہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّ الْحُمّٰی قَدَ وَہَنَتْہُمْ ہٰٓؤُلَآئِ اَجْلَدُ مِنْ کَذَا وَ کَذَا رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ(عمرۃ القضا کے لئے)مکہ تشریف لائے ا نہیں مدینہ کے بخار نے کمزور کردیا تھا۔مشرکوں نے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ کل تمہارے پاس کچھ لوگ آنے والے ہیں جنہیں بخارنے بہت کمزور کر رکھا ہے اور وہ بیماری کی شدت سے نڈھال ہو چکے ہیں۔چنانچہ مشرک لوگ(مسلمانوں کو دیکھنے کے لئے حرم میں)حطیم کے پاس آکربیٹھ گئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں خوب اکڑ اکڑ کر تیز تیز قدم چلیں۔رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال سے چلیں تاکہ مشرکوں کو مسلمان طاقتور اور صحت مند دکھائی دیں(چنانچہ ایسا ہی ہوا)مشرکین نے مسلمانوں کو رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے ان لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ انہیں بخارنے کمزور کر رکھا ہے یہ بڑے طاقتور اور اچھے بھلے صحت مند ہیں۔اسے مسلم نے [1] کتاب الحج ، باب استحباب استلام الرکنین الیمانین فی الطواف….