کتاب: دوستی اور دشمنی (کتاب و سنت کی روشنی میں) - صفحہ 185
4 ﴿وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطاً﴾(18:28) ’’جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی ہے اور جس کامعاملہ افراط تفریط پر مبنی ہے ایسے شخص کی بات نہ مانو۔‘‘(سورۃ الکہف،آیت نمبر28) مسئلہ 206:کافروں سے برأت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے مقابلہ میں اہل ایمان ڈٹ جائیں اور ہلکے نہ پڑیں۔ ﴿فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّ لاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْقِنُوْنَ﴾(60:30) ’’پس اے نبی!صبر کرو،اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقینا سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں۔‘‘(سورۃ الروم،آیت نمبر60) مسئلہ 207:کفار کا ہر محاذ پر پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے اور ان سے کسی قسم کی نرمی اختیار نہ کی جائے۔ ﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ ط وَ مَأْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ط وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴾(9:66) ’’اے نبی!کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘(سورۃ التحریم،آیت نمبر9) مسئلہ 208:کافروں کو اپنے یا دوسرے مسلمانوں کے راز مہیا نہ کئے جائیں نہ ہی اہم ملکی امور میں ان سے مشاورت کی جائے۔ ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَباَلاً ط﴾(118:3) ‘‘اے لوگو،جو ایمان لائے ہو!اپنے(مومن)ساتھیوں کے علاوہ تم کسی دوسرے کو اپنا ہمراز نہ بناؤ کیونکہ وہ تمہیں ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔‘‘(سورۃ آلعمران،آیت نمبر118) مسئلہ 209:کافر یا مشرک کو کسی ایسے منصب یا عہدے پر مقرر نہ کیا جائے جہاں وہ مسلمانوں کے اندرونی احوال و اسرار سے واقف ہوسکے۔